نئی دہلی،9؍دسمبر(آئی این ایس انڈیا) لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے جمعرات کو ایوان زیریں میں اپنی پارٹی کے ایک وفد کو آسام میں ناگالینڈ جانے کے مبینہ طور پر روکنے کامعاملہ اٹھایا اور الزام لگایاہے کہ حکومت ہمیشہ کانگریس لیڈروں کے ہاتھ میں رہی ہے۔ ایوان میں وقفہ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہاہے کہ ناگالینڈ میں بے گناہ شہریوں کے قتل کے بعد سونیا گاندھی کی ہدایت پر یہ وفد تشکیل دیا گیا۔ اس وفد کے ارکان کو آسام میں حراست میں لے لیا گیا۔ اس وفد میں ایوان کے ارکان گورو گوگوئی اور اینٹو انٹونی شامل تھے۔ادھیررنجن چودھری نے ناگالینڈ فائرنگ کے واقعہ سے متعلق ایوان میں وزیر داخلہ امیت شاہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایاہے کہ وزیر داخلہ نے ایوان کوگمراہ کن بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو رکنے کو کہا گیا اور جب وہ نہیں رکے تو گولیاں چلائی گئیں۔ لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ براہ راست گولی ماری گئی۔ یہ حکومت شمال مشرق میں حالات خراب کر رہی ہے۔ لکھیم پور کھیری میں بھی ایساہی دیکھاگیاہے۔